آستان نیوز کی رپورٹ کے مطابق جامعہ المصطفی العالمیہ کے 700 طلبا نے جن کا تعلق دنیا کے مختلف ملکوں سے ہے امام رضآ علیہ السلام کے حرم مطہر کے رواق دارالمرحمہ میں اجتماع کرکے عالمی سامراج کے حملوں کی مذمت کی اور امام شہید اور رہبرانقلاب اسلامی کی امنگوں سے تجدید عہد کیا
پروگرام کا آغازتلاوت قرآن کریم سے ہوا جس کے بعد حجت الاسلام گنابادی نژاد نے سوگوار اجتماع سے خطاب کیا
رہبرانقلاب کی قرآنی میراث پر تاکید اور بین الاقوامی طلبا کا کردار
حجت الاسلام والمسلمین گنابادی نژاد نے اپنے خطاب میں شہید رہبرانقلاب اسلامی کی نظریاتی بنیاد کو قرانی تعلیمات پر استوار قرار دیا اور کہا کہ شہید رہبر نے اسلامی انقلاب سے قبل ہی قرآنی تعلیمات کی تشریح کرکے تفسیر کے اصلی مورچے کی بنیاد ڈالی
انہوں نے کہا کہ اس قرآںی نظریہ نے آج عالمی چیلنجوں کے مقابلے میں اپنی برتری کو ثابت کردیا جس کا نتیجہ یہ ہے کہ آج مختلف علمی میدانوں میں قرآنی مفسرین اور قرآنی علوم کے ماہرین پوری طرح سرگرم ہيں
حجت الاسلام گنابادی نژاد نے قرآںی تعلیمات کے اس مورچے میں دنیا کے مختلف ملکوں کے طلبا کی موجودگی کو اس نظریہ اور تربیت کا کامیاب نتیجہ قراردیا ۔
استقامت آج سامراج کے مقابلے میں عزت کا باعث ہے
حجت الاسلام گنابادی نژاد نے انقلاب سے پہلے کے دشوار حالات کا ذکرکرتے ہوئے استقامت اور ثابت قدمی کو آج ملک کی عزت و وقار کے تحفظ کا ضامن قرار دیا اور علاقے میں امریکا اور غاصب صیہونی حکومت کے اقدامات اور خاص طور پر غزہ اور عراق میں ان قوتوں کے ظالمانہ اقدامات کو خطے میں سیاسی بالادستی اور تسلط قائم کرنے کی کوششوں کا نتیجہ بتایا اور کہا کہ اس وقت ضرورت اس بات کی ہے کہ امریکا کی جنگ پسندانہ اور جارحانہ ماہیت اور اس کے چہرے کو بے نقاب کیا جائے
انہوں نے لیبیا اور عراق جیسے ملکوں کے تاریخی تجربات کا حوالہ دیتے ہوئے رہبرانقلاب اسلامی کے اس درس کو کہ دشمن پر کبھی بھی اعتماد نہيں کیا جاسکتا ، نیادی اور حیاتی نکتہ قراردیا
پسپائي کے دور کا خاتمہ اور طلبا کی سنگین ذمہ داری
حجت الاسلام گنادبادی نژاد نے اپنے خطاب کے آخر میں کہا کہ مارکر بھاگ جانے کا زمانہ ختم ہوگيا ہےاور ایران سیاسی اور فوجی میدان میں پوری قوت کے ساتھ ہر طرح کے خطرات کے مقابلے میں ڈٹا ہوا ہے
انہوں نے کہا کہ غیرملکی طلاب پر جو رہبرانقلاب اسلامی کے خاص عقیدت مند اور شاگرد ہیں اس مشن کو آگے بڑھانے کی سنگین ذمہ داری عائد ہوتی ہے تاکہ تمام تحقیقی ، ابلاغیاتی اور بیان و خطاب کے میدان میں رہبرانقلاب کے افکار و نظریات کو پایہ تکمیل تک پہنچائيں اور سرافرازی کے ساتھ اس گرانقدر میراث کی پاسداری کریں
انہوں نے علاقے میں تشیع اور استقامت کو متحرک کرنے میں رہبرانقلاب اسلامی کے تاریخی کردار کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ایرانی قوام نے تاریخ سے سبق لے کر کبھی بھی اپنے عزت مندانہ موقف پسپائي اختیار نہيں کی کیونکہ مار کربھاگ جانے کا دور اب ختم ہوچکا ہے
اس پروگرام کے آخر میں جامعہ المصطفی العالمیہ کے ایک طالب علم نے رہبرشہید کے ایصال ثواب کے لئے سید الشہدا حضرت امام حسین علیہ السلام کے مصائب پڑھے اور نوحہ خوانی و سینہ زنی بھی کی گئي
مترجم و ویراستار : سید علی عباس رضوی